کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے کمپولان وانگ سیمپنان پیکرجا (کے ڈبلیو ایس پی) میں لازمی شراکت کے نظام پر سوالات اٹھائے ...
کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے کمپولان وانگ سیمپنان پیکرجا (کے ڈبلیو ایس پی) میں لازمی شراکت کے نظام پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، کیونکہ موجودہ قانون کے تحت ایسے غیر ملکی کارکن جو ملائیشیا چھوڑ کر دوبارہ واپس نہ آنے کا ارادہ رکھتے ہوں، مخصوص شرائط کے تحت اپنی کے ڈبلیو ایس پی کی مکمل بچت 55 سال کی عمر سے پہلے بھی نکال سکتے ہیں۔
یہ معاملہ پرتوبوہاں گاگاسان انوویسی راکیت ملائشیا (پی جی آئی آر ایم) کے صدر ازمی محمد طاہر نے اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر غیر ملکی کارکنوں سے لازمی کے ڈبلیو ایس پی شراکت لینے کا بنیادی مقصد سماجی تحفظ اور ریٹائرمنٹ سیونگ فراہم کرنا ہے تو ملائیشیا چھوڑنے کی صورت میں مکمل رقم قبل از وقت نکالنے کی اجازت کے بارے میں پالیسی کی وضاحت ضروری ہے۔
غیر ملکی کارکنوں کے لیے 2 فیصد شراکت
ملائیشیا نے غیر ملکی شہری کارکنوں کے لیے کے ڈبلیو ایس پی میں لازمی شراکت کا نفاذ اکتوبر 2025 سے شروع کیا تھا۔
پی جی آئی آر ایم کے صدر کے مطابق تجویز کردہ لازمی شراکت میں کارکن کی جانب سے 2 فیصد اور آجر کی جانب سے 2 فیصد حصہ شامل ہے۔
ازمی محمد طاہر نے سوال اٹھایا کہ اگر اس نظام کا مقصد ملائیشیا میں کام کرنے والے تمام افراد کو، ان کی قومیت سے قطع نظر، سماجی تحفظ اور ریٹائرمنٹ سیونگ فراہم کرنا ہے تو پھر غیر ملکی کارکن کے ملک چھوڑنے پر مکمل رقم نکالنے کی اجازت اس مقصد کے ساتھ کس طرح مطابقت رکھتی ہے۔
کے ڈبلیو ایس پی قانون کے تحت مکمل رقم نکالنے کا معاملہ
مقامی میڈیا کے مطابق ازمی نے ایمپلائیز پراویڈنٹ فنڈ ایکٹ 1991 کی سیکشن 70 سی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی شہری کارکن جو ملائیشیا چھوڑ رہا ہو اور دوبارہ واپس آنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اسے پینگلواران مینیگالکن نگارا یعنی ملک چھوڑنے کی بنیاد پر اپنی مکمل کے ڈبلیو ایس پی بچت نکالنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں غیر ملکی کارکن کو 55 سال کی عمر تک انتظار کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
یہ سہولت خاص طور پر ان غیر ملکی کارکنوں کے لیے اہم ہے جو ملازمت یا اپنے قیام کی مدت مکمل ہونے کے بعد مستقل طور پر ملائیشیا چھوڑ دیتے ہیں۔
پی جی آئی آر ایم نے سنگاپور کے سی پی ایف سے موازنہ کیا
ازمی محمد طاہر نے ملائیشیا کے نظام کا موازنہ سنگاپور کے سنٹرل پراویڈنٹ فنڈ (سی پی ایف) سے بھی کیا۔
ان کے مطابق سی پی ایف بنیادی طور پر سنگاپور کے شہریوں اور مستقل رہائشیوں (پی آر) کی ریٹائرمنٹ، رہائش اور صحت سے متعلق ضروریات کے لیے بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے افراد جو اب شہری یا مستقل رہائشی نہیں رہتے، ان کے سی پی ایف اکاؤنٹ کو بند کرنے اور بچت منتقل کرنے کے لیے الگ طریقہ کار موجود ہے۔
پی جی آئی آر ایم نے سوال اٹھایا کہ ملائیشیا غیر ملکی کارکنوں سے لازمی شراکت تو لے رہا ہے، لیکن جب وہ ملک چھوڑتے ہیں تو انہیں اپنی مکمل بچت نکالنے کی اجازت بھی دی جاتی ہے۔
مقامی کارکنوں کے لیے رسائی کا سوال
ازمی نے اس معاملے کو ملائیشیا کے مقامی کے ڈبلیو ایس پی اراکین کے لیے بھی ایک پالیسی سوال قرار دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ بعض ایسے مقامی کارکن جو مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں، انہیں 55 سال کی عمر سے پہلے اپنی کے ڈبلیو ایس پی بچت تک عام طور پر مکمل رسائی حاصل نہیں ہوتی، جبکہ ملک چھوڑنے والے غیر ملکی کارکن مخصوص شرائط کے تحت اپنی مکمل بچت نکال سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی جی آئی آر ایم کے ڈبلیو ایس پی سے غیر محدود رقم نکالنے کا مطالبہ نہیں کر رہی بلکہ ان کے مطابق واقعی ضرورت مند مقامی اراکین کے لیے محدود، مشروط اور کنٹرول شدہ رسائی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
حکومت سے پالیسی کی وضاحت کا مطالبہ
پی جی آئی آر ایم کے صدر نے کہا کہ اگر پالیسی میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے مکمل رقم نکالنے کی مخصوص گنجائش موجود ہے تو مقامی کارکنوں کے لیے محدود اور ہدفی رسائی کے امکان پر بھی بحث کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ کے ڈبلیو ایس پی نظام میں بچت کی حفاظت، ریٹائرمنٹ اور موجودہ زندگی کی مالی ضروریات کے درمیان پالیسی توازن کیسے قائم کیا جا رہا ہے۔
تاہم یہ بات اہم ہے کہ مذکورہ اعتراضات پی جی آئی آر ایم کے صدر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور تجاویز ہیں، حکومت کی جانب سے نئی پالیسی یا فیصلہ نہیں۔ موجودہ خبر میں کے ڈبلیو ایس پی یا حکومت کی طرف سے ان سوالات کے جواب یا کسی نئی تبدیلی کا اعلان رپورٹ نہیں کیا گیا۔
ملائیشیا میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے اس معاملے کا عملی پہلو یہ ہے کہ کے ڈبلیو ایس پی شراکت، ملک چھوڑنے پر رقم نکلوانے اور متعلقہ شرائط کے بارے میں تازہ ترین معلومات براہ راست کے ڈبلیو ایس پی کے سرکاری قواعد سے حاصل کی جائیں، کیونکہ ملازمت، پاس اور قیام کی صورتحال کے مطابق طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے۔

COMMENTS