کوالالمپور: ملائیشیا کی وزارتِ سیاحت، فنون و ثقافت نے ملائشیا مائی سیکنڈ ہوم (ایم ایم 2 ایچ) پروگرام کے ایسے شرکا کی نگرانی سخت کرنے کی ...
کوالالمپور: ملائیشیا کی وزارتِ سیاحت، فنون و ثقافت نے ملائشیا مائی سیکنڈ ہوم (ایم ایم 2 ایچ) پروگرام کے ایسے شرکا کی نگرانی سخت کرنے کی ہدایت کی ہے جو اپنے ویزا یا متعلقہ اجازت کے دائرہ کار سے باہر کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
وزارت کے مطابق امیگریشن حکام کو ایم ایم 2 ایچ ہولڈرز کی سرگرمیوں پر مزید کڑی نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، خاص طور پر ان افراد پر توجہ دی جائے گی جو مطلوبہ اجازت یا قانونی شرائط پوری کیے بغیر تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
وزارت کی امیگریشن حکام کو ہدایت
مقامی میڈیا کے مطابق یہ معاملہ ایم ایم 2 ایچ پروگرام کے حوالے سے ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں سامنے آیا، جس میں پروگرام کے آپریشنل اور ضابطہ جاتی معاملات پر غور کیا گیا۔
وزیرِ سیاحت، فنون و ثقافت داتوک سری تیونگ کنگ سنگ نے بتایا کہ متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایم ایم 2 ایچ پروگرام کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے نگرانی کا نظام مزید مضبوط کریں۔
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ایسے افراد کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے گا جو اپنے ایم ایم 2 ایچ زمرے کے تحت مطلوبہ اجازت کے بغیر کاروباری سرگرمیوں میں شامل ہیں یا قانونی معیار پر پورا نہیں اترتے۔
ایم ایم 2 ایچ کے مختلف زمروں میں کاروبار کے قواعد
مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق موجودہ ایم ایم 2 ایچ قواعد میں پلاٹینم زمرے کے شرکا کو ملائیشیا میں کام کرنے، سرمایہ کاری کرنے یا کاروبار چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔
جبکہ گولڈ، سلور اور سپیشل اکنامک اینڈ فانینشل زون (ایس ای زیڈ/ایس ایف زیڈ) زمروں سے متعلق شرکا کے لیے کام یا کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے متعلقہ اضافی اجازت یا پاس کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایم ایم 2 ایچ ہولڈر کے لیے اس کے مخصوص زمرے اور اجازت کی شرائط اہم ہیں۔
سیکیورٹی چیک اور درخواستوں میں تاخیر بھی زیرِ بحث
ایم ایم 2 ایچ کے جائزہ اجلاس میں صرف کاروباری سرگرمیوں کا معاملہ ہی زیرِ بحث نہیں آیا بلکہ درخواستوں کے سیکیورٹی اسکریننگ کے طویل عمل اور درخواستوں کی جانچ مکمل ہونے میں مختلف مدت لگنے جیسے انتظامی مسائل پر بھی غور کیا گیا۔
موجودہ نظام کے تحت ایم ایم 2 ایچ درخواست گزاروں کی پولیس سیکیورٹی اسکریننگ ضروری ہے، جبکہ 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے درخواست گزاروں سے سرٹیفیکیٹ آف گڈ کنڈکٹ یا اس کے مساوی دستاویز بھی طلب کی جاتی ہے۔
بین الادارہ تعاون پر زور
وزارت سیاحت نے اس معاملے میں وزارت، امیگریشن حکام اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مسلسل تعاون پر زور دیا ہے۔
وزارت کے مطابق مقصد ایم ایم 2 ایچ پروگرام کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانا اور ایسے معاملات کی نگرانی کرنا ہے جہاں پروگرام کے تحت حاصل رہائشی سہولت کو مطلوبہ اجازت کے بغیر تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہو۔
حکام کی جانب سے کسی مخصوص ایم ایم 2 ایچ ہولڈر یا کاروبار کے خلاف اس رپورٹ میں کسی حتمی سزا یا عدالتی فیصلے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس لیے نگرانی، تحقیقات یا مبینہ خلاف ورزی کو جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

COMMENTS