کوالالمپور: ملائیشیا اور نیپال نے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام کو مزید منظم، شفاف اور دیانت داری پر مبنی بنانے کے لیے نئے طریقہ کار ...
کوالالمپور: ملائیشیا اور نیپال نے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام کو مزید منظم، شفاف اور دیانت داری پر مبنی بنانے کے لیے نئے طریقہ کار پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد ایسے طریقوں کی روک تھام کرنا ہے جو تارکین وطن کارکنوں کو استحصال اور غیر ضروری اخراجات کا شکار بنا سکتے ہیں۔
ملائیشیا کے وزیر انسانی وسائل داتوک سری آر رامانن کے مطابق یہ اتفاق رائے ان کی نیپالی ہم منصب، وزیر برائے نوجوان، محنت اور روزگار رام جی یادو کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران سامنے آیا۔
دونوں وزرا کے درمیان گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان محنت اور روزگار کے شعبے میں تعاون سمیت غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے موجودہ نظام کو بہتر بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بھرتی کے نظام میں شفافیت پر زور
رامانن نے اپنے فیس بک پیغام میں کہا کہ ملائیشیا اور نیپال نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کارکنوں کی بھرتی کے لیے زیادہ منظم اور شفاف طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے طریقوں سے بھی نمٹنے کی ضرورت ہے جو غیر ملکی کارکنوں پر بھاری اخراجات عائد کرتے ہیں یا انہیں استحصال اور غیر ذمہ دارانہ یا غیر قانونی نوعیت کے درمیانی کردار ادا کرنے والے افراد کے سامنے غیر محفوظ بنا دیتے ہیں۔
وزیر انسانی وسائل کے مطابق ملائیشیا غیر ملکی کارکنوں کے انتظام میں دیانت داری، شفافیت، جواب دہی اور کارکنوں کے تحفظ کے اصولوں پر قائم رہنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم اس کے ساتھ ملک کی صنعتوں اور لیبر مارکیٹ کی حقیقی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
رامانن نے واضح کیا کہ نظام کا مقصد ایک طرف کارکنوں کا تحفظ اور دوسری جانب آجروں کے لیے بھرتی کے عمل کو آسان بنانا ہے، جبکہ ایسے راستے بند کرنا بھی ضروری ہے جن کے ذریعے کارکنوں کا استحصال یا ان کے ساتھ بدسلوکی ممکن ہو۔
دوطرفہ رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق
ملائیشیا اور نیپال کے درمیان سفارتی تعلقات 1960 سے قائم ہیں۔ دونوں ممالک نے محنت اور روزگار کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے مناسب دوطرفہ ذرائع کے ذریعے رابطہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی، ایجنسیوں کے کردار، بھرتی کے اخراجات اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق معاملات مسلسل اہمیت رکھتے ہیں۔
نئے طریقہ کار کی تفصیلی عملی شکل یا اس کے نفاذ کی مخصوص تاریخ کے بارے میں فراہم کردہ رپورٹ میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
نیپال میں سیلاب پر اظہار تعزیت
گفتگو کے دوران رامانن نے گزشتہ ماہ آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان اور تباہی پر نیپال کی حکومت اور عوام سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ مدانی حکومت اس قدرتی آفت کے بعد ان 55 ملائیشین شہریوں کے حوالے سے بھی سنجیدہ توجہ جاری رکھے گی جن سے اب تک رابطہ نہیں ہو سکا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 26 اگست کو نیپال اور چین کی سرحد کے قریب آنے والی تباہی کے نتیجے میں دونوں ممالک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 1,450 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 6,000 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
غیر ملکی کارکنوں سے متعلق ملائیشیا اور نیپال کا نیا تعاون خاص طور پر اس بات پر توجہ مرکوز کرے گا کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی زیادہ شفاف اور منظم ہو، کارکنوں پر غیر ضروری مالی بوجھ کم کیا جائے اور ایسے عناصر کی گنجائش محدود کی جائے جو بھرتی کے عمل میں کارکنوں کے استحصال کا باعث بن سکتے ہیں۔

COMMENTS