ملائیشیا اور پاکستان نے سیکیورٹی کے شعبے میں باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان ...
ملائیشیا اور پاکستان نے سیکیورٹی کے شعبے میں باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا۔ اس گروپ کا مقصد سیکیورٹی سمیت مختلف متعلقہ شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو آگے بڑھانا اور طے شدہ امور پر عملی پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔
یہ پیش رفت چین میں ہونے والے گلوبل پبلک سیکورٹی کوآپریشن فورم لیانیونگنگ 2026 کے موقع پر ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل اور پاکستان کے وزیر داخلہ سینیٹر سید محسن رضا نقوی کے درمیان ملاقات میں سامنے آئی۔
ملاقات کے دوران دونوں جانب سے سیکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ ملائیشیا کے وزیر داخلہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے اہم شعبوں میں سیکیورٹی، منشیات کے خلاف کارروائیاں، پولیس تربیت، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور دیگر متعلقہ امور شامل ہیں۔
جوائنٹ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق
سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے بتایا کہ دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود مفاہمت کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو منظم انداز میں آگے بڑھانا ہے۔
ملائیشین وزیر داخلہ نے کہا کہ چین میں ہونے والی ملاقات گزشتہ ماہ پاکستان کے سرکاری دورے کے دوران شروع ہونے والے تعاون کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دونوں ممالک نے تعاون کے لیے بنیاد قائم کی اور متعدد اہم امور پر مفاہمت حاصل کی تھی، جبکہ موجودہ ملاقات میں اس بات پر توجہ دی گئی کہ ان مفاہمتوں کو عملی شکل کیسے دی جائے اور ان کے قابلِ پیمائش نتائج کیسے حاصل کیے جائیں۔
ملائیشیا نے پاکستان کے پہلے وفد کو ملک کا دورہ کرنے کی دعوت اور تعاون کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔
منشیات، پولیس تربیت اور انٹیلی جنس تعاون
دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون میں منشیات کے خلاف کارروائی بھی ایک اہم شعبہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس کی تربیت، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے کو مزید بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
دونوں ممالک نے پولیس تربیت، سائبر اور ڈیجیٹل سیکیورٹی، انسانی اسمگلنگ اور مالیاتی جرائم کی تحقیقات کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
اس تعاون کا ایک اہم مقصد ایسے جرائم کے نیٹ ورک کے خلاف مشترکہ کوششیں کرنا ہے جو ایک ملک کی حدود تک محدود نہیں رہتے بلکہ مختلف ممالک کے درمیان سرگرم ہوتے ہیں۔
ملائیشیا کی جانب سے پولیس رائل ملائیشیا اور پاکستان کے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان براہِ راست تعاون کو بھی مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس کے ساتھ تعاون
سیف الدین ناسوشن کے مطابق ملائیشیا کی پی ڈی آر ایم اور پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے درمیان براہِ راست تعاون کو بھی مزید مستحکم کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں اداروں کے درمیان ماضی میں بھی تعاون کا تجربہ موجود ہے اور اس دوران 28 سے زائد کیسز میں تعاون کیا جا چکا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان منشیات سے متعلق جرائم کے خلاف معلومات کے تبادلے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کا مقصد منشیات کے ایسے نیٹ ورکس کی نشاندہی اور کارروائی میں مدد فراہم کرنا ہے جو سرحدوں سے باہر بھی سرگرم ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی قیدیوں کی منتقلی کا معاملہ
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان انٹرنیشنل ٹرانسفر آف پریزنرز ایگریمنٹ پر عمل درآمد بھی زیر بحث آیا۔ یہ معاہدہ 21 اگست 2026 کو دستخط کیا گیا تھا۔
ملائیشیا نے ابتدائی طور پر 52 پاکستانی قیدیوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں معاہدے کے تحت پاکستان منتقل کرنے کے لیے ممکنہ طور پر زیر غور لایا جا سکتا ہے۔
تاہم ان قیدیوں کی منتقلی خودکار طور پر نہیں ہوگی بلکہ ہر فرد کا معاملہ معاہدے میں طے شدہ شرائط اور متعلقہ انفرادی قانونی عمل کے مطابق دیکھا جائے گا۔
سیف الدین کے مطابق اس وقت توجہ دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کے درمیان رابطہ اور انتظامی ہم آہنگی کو تیز کرنے پر ہے تاکہ قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے پر عملی طور پر پیش رفت کی جا سکے۔
یہ معاملہ ملائیشیا میں موجود پاکستانی شہریوں کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ معاہدے کے تحت اہل قرار پانے والے قیدی مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں اپنے ملک منتقل کیے جانے کے عمل میں شامل ہو سکتے ہیں۔
سائبر کرائم اور سرحد پار جرائم پر توجہ
دونوں وزرائے داخلہ نے بدلتے ہوئے سیکیورٹی خطرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ان میں دہشت گردی، انتہا پسند نیٹ ورکس، دہشت گردی کی مالی معاونت، سائبر جرائم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے سرحد پار جرائم شامل ہیں۔
سیف الدین ناسوشن نے کہا کہ موجودہ دور میں سیکیورٹی خطرات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور کئی جرائم کسی ایک ملک کی سرحد تک محدود نہیں رہتے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، اداروں کی استعداد کار میں اضافہ اور مشترکہ آپریشنل تعاون بھی اسی رفتار سے آگے بڑھنا ضروری ہے۔
سائبر اور ڈیجیٹل جرائم کے بڑھتے ہوئے دائرے کے پیش نظر دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معلومات اور تجربات کا تبادلہ مستقبل میں تعاون کا ایک اہم حصہ بن سکتا ہے۔
سرحد پار جرائم کے خلاف مشترکہ کوشش
ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان سیکیورٹی تعاون میں سرحد پار جرائم کے نیٹ ورکس کو توڑنے پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ انسانی اسمگلنگ، مالیاتی جرائم، منشیات اور ٹیکنالوجی سے متعلق جرائم ایسے شعبے ہیں جہاں مختلف ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ اہم سمجھا جاتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان جوائنٹ ورکنگ گروپ کے قیام سے مختلف وزارتوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھانے کی توقع ہے۔
سیف الدین نے کہا کہ ملائیشیا اور پاکستان کے تعلقات کی بنیاد مضبوط ہے، تاہم اب ترجیح یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مفاہمت کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے اور ایسے نتائج حاصل کیے جائیں جو دونوں ممالک کے عوام کی سیکیورٹی کے لیے قابلِ ذکر ہوں۔
مجموعی طور پر چین میں ہونے والی ملاقات کے دوران ملائیشیا اور پاکستان نے سیکیورٹی تعاون کو ایک منظم فریم ورک کے تحت آگے بڑھانے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان روابط مضبوط کرنے، منشیات اور سرحد پار جرائم کے خلاف تعاون بڑھانے اور پاکستانی قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے پر عمل درآمد تیز کرنے پر توجہ مرکوز کی۔
دونوں ممالک کے درمیان یہ تعاون مستقبل میں سیکیورٹی، انٹیلی جنس، سائبر کرائم، انسانی اسمگلنگ، مالیاتی جرائم اور منشیات کے خلاف کارروائی جیسے مختلف شعبوں تک پھیل سکتا ہے۔

COMMENTS