تازہ ترین خبریں

    ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کم کرنے کی تیاری، صنعتوں کو آٹومیشن کی ہدایت

     کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت نے صنعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ پیداواری عمل میں آٹومیشن کو تیز کریں اور بتدریج غیر ملکی کارکنوں پر اپنا انحصار...

     کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت نے صنعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ پیداواری عمل میں آٹومیشن کو تیز کریں اور بتدریج غیر ملکی کارکنوں پر اپنا انحصار کم کریں۔ یہ بات وزیر سرمایہ کاری، تجارت و صنعت داتوک سری جوہاری عبدالغنی نے 2027 کے بجٹ پیش کیے جانے سے قبل کہی ہے۔

    جوہاری عبدالغنی کے مطابق ملائیشیا میں کئی کاروباری ادارے طویل عرصے سے غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار کرتے آ رہے ہیں، جس کے باعث آٹومیشن میں سرمایہ کاری کی رفتار متاثر ہوئی اور کمپنیوں کے اخراجات کا ڈھانچہ غیر ملکی کارکنوں کی اجرت سے جڑا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں اور پیداوار میں جدید خودکار نظام زیادہ تیزی سے متعارف کرائیں۔

    وزیر نے واضح کیا کہ مستقبل میں غیر ملکی کارکن موجودہ رفتار کے مطابق اتنی آسانی سے دستیاب نہیں ہوں گے۔ اسی وجہ سے کاروباری اداروں کو ابھی سے اپنی پیداواری ضروریات اور افرادی قوت کے نظام پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔

    صنعتوں میں آٹومیشن پر زور

    جوہاری عبدالغنی نے کہا کہ تمام سائز کی کمپنیوں کو آٹومیشن اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ وقت کے ساتھ غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔ خاص طور پر ایسے کام جنہیں 3ڈی جابز کہا جاتا ہے، یعنی ڈرٹی، ڈینجرس اور ڈیفیکلٹ کام، ان میں آٹومیشن کے استعمال کو بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

    تاہم وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ غیر ملکی کارکنوں کی تعداد میں کمی فوری طور پر نہیں کی جائے گی بلکہ یہ عمل بتدریج آگے بڑھے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ غیر ملکی افرادی قوت کو ایک دم ختم کرنے کے بجائے صنعتوں کو مرحلہ وار آٹومیشن کی طرف منتقل کرنے کی توقع ہے۔

    ملائیشیا میں تعمیرات، مینوفیکچرنگ، زراعت، خدمات اور دیگر شعبوں میں غیر ملکی کارکن طویل عرصے سے اہم افرادی قوت کا حصہ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے آٹومیشن پر زور دینے کا مقصد کمپنیوں کو ایسی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی طرف لے جانا ہے جس سے کم افرادی قوت کے ساتھ زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔

    غیر ملکی کارکنوں کی منظوری آسانی سے نہ دینے پر زور

    جوہاری نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کی درخواستوں کو بہت آسانی سے منظور نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق آجروں کو پہلے یہ واضح کرنا چاہیے کہ ان کے ادارے میں کون سی ملازمتیں واقعی 3ڈی نوعیت کی ہیں اور ان عہدوں کے لیے کتنی تنخواہ اور کن قابلیتوں کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کو اپنی افرادی قوت کی حقیقی ضرورت کا جائزہ لینا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا متعلقہ کام کے لیے مقامی کارکنوں کو مناسب اجرت اور بہتر شرائط کی پیشکش کی جا رہی ہے یا نہیں۔

    وزیر نے اس تاثر کو بھی چیلنج کیا کہ ملائیشیا کے شہری مقامی ملازمتیں کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کوئی آجر یہ کہتا ہے کہ مقامی افراد ملازمت کے لیے تیار نہیں تو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ انہیں کتنی تنخواہ کی پیشکش کی جا رہی ہے۔

    مقامی کارکنوں کی اجرت کا معاملہ

    جوہاری عبدالغنی نے اس حوالے سے ان ملائیشین شہریوں کی مثال دی جو بہتر آمدنی کے حصول کے لیے روزانہ طویل سفر کرکے سنگاپور جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی ملازمت مقامی افراد کے لیے مالی طور پر مناسب نہیں تو اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ لوگ کام نہیں کرنا چاہتے، بلکہ اجرت اور ملازمت کی مجموعی شرائط بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    وزیر کا کہنا تھا کہ کاروباری اداروں کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ ان کی جانب سے پیش کی جانے والی تنخواہ ملازمت کے تقاضوں، سفر کے اخراجات اور زندگی کے موجودہ اخراجات کے مقابلے میں مناسب ہے یا نہیں۔

    یہ معاملہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کی پالیسی سے بھی جڑا ہوا ہے، کیونکہ اگر بعض ملازمتوں کے لیے مناسب اجرت اور بہتر شرائط فراہم کی جائیں تو مقامی افرادی قوت کی شرکت بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب مشکل، خطرناک یا کم پسند کیے جانے والے کاموں کے لیے آٹومیشن بھی ایک متبادل بن سکتا ہے۔

    کمپنیوں کے درمیان مسابقت کا معاملہ

    جوہاری نے غیر ملکی کارکنوں پر زیادہ انحصار کرنے والی کمپنیوں اور محدود غیر ملکی افرادی قوت تک رسائی رکھنے والے اداروں کے درمیان مسابقت کا مسئلہ بھی اجاگر کیا۔

    ان کے مطابق طویل عرصے تک غیر ملکی کارکنوں پر انحصار نے بعض کمپنیوں کے لیے کم لاگت پر کام کرنا ممکن بنایا، جبکہ دوسری کمپنیوں کو مختلف حالات میں مقابلہ کرنا پڑا۔ حکومت آٹومیشن کے ذریعے کاروباری اداروں کے لیے زیادہ مساوی مسابقتی ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے۔

    جوہاری کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ ملائیشیا نے طویل عرصے تک غیر ملکی کارکنوں پر بہت زیادہ انحصار کیا، جبکہ اسی عرصے میں صنعتوں میں آٹومیشن کے لیے مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ اس کے نتیجے میں کمپنیوں کے اخراجات کا ڈھانچہ غیر ملکی کارکنوں کی اجرت کے حساب سے کم رکھا گیا۔

    سال2027 کے بجٹ سے پہلے اہم پالیسی اشارہ

    وزیر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملائیشیا کا 2027 کا بجٹ اگلے ماہ پارلیمنٹ کے ایوانِ نمائندگان، یعنی دیوان رکیت، میں پیش کیا جانا ہے۔ بجٹ پیش کرنے کی مقررہ تاریخ 9 اکتوبر 2026 ہے۔

    غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کم کرنا، آٹومیشن کو فروغ دینا اور مقامی افرادی قوت کے استعمال کو بڑھانا ملائیشیا کی صنعتی اور معاشی پالیسی کے لیے اہم معاملات میں شامل ہیں۔ تاہم جوہاری کی وضاحت کے مطابق غیر ملکی کارکنوں میں کمی فوری طور پر نہیں بلکہ وقت کے ساتھ کی جائے گی۔

    اس پالیسی کا مطلب یہ نہیں کہ ملائیشیا میں تمام شعبوں سے غیر ملکی کارکنوں کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے گا۔ بلکہ صنعتوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی ضروریات کا جائزہ لے کر آٹومیشن، بہتر اجرت اور مقامی افرادی قوت کے استعمال کے ذریعے غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کو مرحلہ وار کم کریں۔

    غیر ملکی کارکنوں کے لیے اس صورتحال میں مستقبل کی ملازمتوں کا انحصار متعلقہ شعبے، کمپنی کی ضرورت، حکومت کی منظوری اور نافذ العمل امیگریشن و لیبر قوانین پر ہوگا۔ نئی پالیسیوں کے نتیجے میں ایسے شعبوں میں آٹومیشن کی اہمیت بڑھ سکتی ہے جہاں مشینوں یا خودکار نظام کے ذریعے انسانی محنت کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر جوہاری عبدالغنی کا بیان ملائیشیا کی صنعتوں کو یہ واضح سمت دیتا ہے کہ مستقبل میں صرف کم اجرت والی افرادی قوت پر انحصار کرنے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی، آٹومیشن اور پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کو بڑھانا ہوگا۔ حکومت کی جانب سے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کو زیادہ احتیاط سے دیکھنے اور کمپنیوں سے حقیقی ضرورت ثابت کرنے کی توقع بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔

    COMMENTS

    Name

    Business,8,Current Affairs,410,Employment News,145,Events and Festivals,3,Global Visa News,2,Immigration Operations,338,Legal Rights,19,Life and Finances,20,Malaysian Culture,2,PR and MM2H,2,Scam Alerts,1,Student Visa,1,Study in Malaysia,1,Top Destinations,2,Tourism Updates,11,Travel Tips,2,UAE,1,Visa Updates,13,
    ltr
    item
    نوید سحر: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کم کرنے کی تیاری، صنعتوں کو آٹومیشن کی ہدایت
    ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کم کرنے کی تیاری، صنعتوں کو آٹومیشن کی ہدایت
    https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEi2wfv1RvIxXacPKVjoohDOFO3Wr_YDiw0Mhjpf9b4zwP_hQmzNn4Zg-bdUksFuz2w0KtcA4a80snAuUch3-kfn_XU26mOXjZL5zjjbnK-TinWJWBuaLvHaLyeuTEvD4SvtZPwe-4Z9nMgGYlZOJ2l8IlNceoCI5kiLGciIwB_D6jN-RK5EuH0KPXx8s8g/s320/261377.jpg
    https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEi2wfv1RvIxXacPKVjoohDOFO3Wr_YDiw0Mhjpf9b4zwP_hQmzNn4Zg-bdUksFuz2w0KtcA4a80snAuUch3-kfn_XU26mOXjZL5zjjbnK-TinWJWBuaLvHaLyeuTEvD4SvtZPwe-4Z9nMgGYlZOJ2l8IlNceoCI5kiLGciIwB_D6jN-RK5EuH0KPXx8s8g/s72-c/261377.jpg
    نوید سحر
    https://urdu.naveedeseher.com/2026/09/malaysia-urges-industries-to-reduce-foreign-worker-reliance.html
    https://urdu.naveedeseher.com/
    http://urdu.naveedeseher.com/
    http://urdu.naveedeseher.com/2026/09/malaysia-urges-industries-to-reduce-foreign-worker-reliance.html
    true
    6715705184017377069
    UTF-8
    Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content
    Share on WhatsApp