اسلام آباد: پاکستان نے مختلف دوست ممالک کے ساتھ ویزا استثنیٰ کے معاہدے کر رکھے ہیں، جن کے تحت مخصوص شرائط کے مطابق بعض پاکستانی شہریوں ک...
اسلام آباد: پاکستان نے مختلف دوست ممالک کے ساتھ ویزا استثنیٰ کے معاہدے کر رکھے ہیں، جن کے تحت مخصوص شرائط کے مطابق بعض پاکستانی شہریوں کو متعلقہ ممالک کے سفر کے لیے ویزا حاصل کرنے سے استثنیٰ حاصل ہے۔ ان انتظامات میں زیادہ تر سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک کے ساتھ ویزا فری قیام کی مدت الگ الگ ہے، جو بعض ممالک میں ایک ماہ سے تین ماہ تک ہو سکتی ہے۔ اس لیے کسی ملک کا نام ویزا استثنیٰ کی فہرست میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پاکستانی عام پاسپورٹ پر بغیر ویزا سفر کر سکتا ہے۔
ویزا استثنیٰ والے ممالک میں ملائیشیا بھی شامل
پاکستان کے ویزا استثنیٰ کے انتظامات میں ملائیشیا، بنگلہ دیش، بحرین، آذربائیجان، ارجنٹائن اور ترکیہ سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔
اس کے علاوہ فہرست میں مصر، انڈونیشیا، ایران، کویت، روس، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، تھائی لینڈ، قطر اور نیپال بھی شامل ہیں۔
تاہم ہر ملک کے ساتھ معاہدے کی شرائط، پاسپورٹ کی قسم اور ویزا فری قیام کی مدت مختلف ہو سکتی ہے۔ سفر سے پہلے متعلقہ ملک کی موجودہ ویزا شرائط کی تصدیق ضروری ہے۔
ایف آئی اے کو تازہ فہرست پر عملدرآمد کی ہدایت
رپورٹ کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور اس کے متعلقہ زونز کو ان ممالک کی تازہ فہرست کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جن کے ساتھ پاکستان کے ویزا استثنیٰ کے انتظامات موجود ہیں۔
اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی سفر کے دوران امیگریشن اور ویزا سے متعلق قواعد پر عملدرآمد کو موجودہ معاہدوں اور سرکاری فہرست کے مطابق یقینی بنانا ہے۔
عام پاسپورٹ رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے اہم وضاحت
ویزا استثنیٰ کے حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ انتظامات میں بڑی تعداد میں سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
اس لیے عام پاکستانی شہریوں کو یہ سمجھنے سے گریز کرنا چاہیے کہ ملائیشیا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر یا فہرست میں شامل کسی بھی دوسرے ملک کے لیے عام پاکستانی پاسپورٹ پر لازماً ویزا درکار نہیں ہوگا۔
ویزا کی ضرورت کا انحصار پاسپورٹ کی قسم، سفر کے مقصد، قیام کی مدت اور متعلقہ ملک کے ساتھ پاکستان کے مخصوص معاہدے کی شرائط پر ہوتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف ممالک کے لیے ویزا فری قیام کی مدت ایک سے تین ماہ تک مختلف ہو سکتی ہے۔
ویزا فری سفر سے پہلے کیا دیکھنا ضروری ہے؟
کسی بھی ملک کا سفر کرنے سے قبل مسافر کو یہ تصدیق کرنی چاہیے کہ:
- اس کے پاسپورٹ کی قسم معاہدے میں شامل ہے یا نہیں۔
- سفر کا مقصد ویزا استثنیٰ کی شرائط کے مطابق ہے یا نہیں۔
- زیادہ سے زیادہ قیام کی اجازت کتنی ہے۔
- داخلے کے وقت پاسپورٹ کی میعاد اور دیگر ضروری شرائط پوری ہوتی ہیں یا نہیں۔
- متعلقہ ملک کی تازہ ترین امیگریشن اور ویزا شرائط کیا ہیں۔
یاد رہے کہ ویزا استثنیٰ کا معاہدہ مخصوص شرائط کے تحت سفر کی سہولت فراہم کرتا ہے اور اسے ہر قسم کے سفر یا ہر پاسپورٹ ہولڈر کے لیے عمومی ویزا فری اجازت نہیں سمجھا جا سکتا۔

COMMENTS