ملائیشیا کے ریاست صباح میں امیگریشن حکام نے 20 مختلف کارروائیوں کے دوران 133 غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائیاں 27 اگ...
ملائیشیا کے ریاست صباح میں امیگریشن حکام نے 20 مختلف کارروائیوں کے دوران 133 غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائیاں 27 اگست سے 3 ستمبر 2026 کے دوران ریاست کے مختلف علاقوں میں کی گئیں، جن میں غیر ملکی شہریوں کی قانونی حیثیت اور امیگریشن قوانین کی پابندی کا جائزہ لیا گیا۔
ملائیشیا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے صباح ڈویژن کے مطابق، گرفتار کیے گئے 133 افراد میں سب سے زیادہ تعداد فلپائن کے شہریوں کی تھی۔ مجموعی طور پر 101 فلپائنی شہریوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ 32 انڈونیشیائی اور 4 پاکستانی شہری بھی کارروائی کی زد میں آئے۔
صباح امیگریشن کے مطابق فلپائن کے 101 شہریوں میں 45 مرد، 25 خواتین، 18 لڑکے اور 9 لڑکیاں شامل ہیں۔ اس تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارروائی کے دوران صرف بالغ افراد ہی نہیں بلکہ کم عمر افراد بھی حراست میں لیے گئے۔
انڈونیشیا کے شہریوں میں 27 مرد اور 5 خواتین شامل تھیں۔ اسی طرح حراست میں لیے گئے چار پاکستانی شہری تمام مرد تھے۔ امیگریشن حکام نے یہ کارروائیاں ریاست کے مختلف اہم اور حساس مقامات پر کیں جہاں غیر قانونی طور پر مقیم یا کام کرنے والے غیر ملکیوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاعات یا شبہات تھے۔
20 کارروائیوں کے دوران 289 افراد کی جانچ
صباح امیگریشن کے مطابق 27 اگست سے 3 ستمبر تک جاری رہنے والی ان 20 کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 289 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔ ان افراد کی شناخت، امیگریشن دستاویزات اور ملک میں قیام کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا گیا۔
جانچ کے بعد 133 افراد کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا۔ حکام کی جانب سے کارروائی مختلف مقامات پر کی گئی تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی اور ان سے متعلق سرگرمیوں کی روک تھام کی جا سکے۔
صباح ملائیشیا کا ایک اہم ریاستی علاقہ ہے جہاں مختلف شعبوں میں غیر ملکی کارکن بھی کام کرتے ہیں۔ ایسے میں امیگریشن حکام کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کے دستاویزات اور قانونی حیثیت کی جانچ معمول کی قانونی کارروائیوں کا حصہ ہوتی ہے۔ جو افراد درست اجازت نامے یا مطلوبہ دستاویزات کے بغیر ملک میں موجود ہوں، ان کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی
صباح امیگریشن نے واضح کیا ہے کہ ریاست میں امیگریشن قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔ حکام کے مطابق ریاست کے مختلف اضلاع میں اہم اور اسٹریٹجک مقامات پر نگرانی اور نفاذِ قانون کی سرگرمیوں کو مزید بڑھایا جائے گا۔
محکمے کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ملک کے امیگریشن قوانین کی پابندی یقینی بنانا اور غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔
امیگریشن حکام نے عوام کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے غیر ملکی شہریوں کو پناہ، روزگار یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کریں جو ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہوں۔
صباح امیگریشن کے مطابق کسی ایسے غیر ملکی کو ملازمت دینا، چھپانا یا اس کی غیر قانونی موجودگی میں مدد کرنا بھی قانونی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے شہریوں اور کاروباری اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ملکی کارکن رکھنے سے پہلے ان کے متعلقہ دستاویزات اور قانونی حیثیت کی جانچ کریں۔
عوام سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل
امیگریشن حکام نے عوام سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق کسی سرگرمی کا علم ہو تو اس بارے میں متعلقہ محکمے کو سرکاری ذرائع کے ذریعے اطلاع دیں۔
محکمے کے مطابق عوام کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات امیگریشن قوانین کے نفاذ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی متعلقہ قانونی طریقہ کار اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امیگریشن قوانین کی پابندی تمام غیر ملکی شہریوں اور انہیں ملازمت دینے والے افراد یا اداروں کے لیے ضروری ہے۔ غیر ملکی کارکنوں کو ملک میں کام کرنے اور قیام کے لیے متعلقہ اجازت ناموں اور قانونی دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے۔
صباح میں ہونے والی حالیہ 20 کارروائیوں کے دوران 289 افراد کی جانچ اور 133 افراد کی گرفتاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاستی امیگریشن حکام غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف نگرانی اور نفاذِ قانون کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ آئندہ بھی ریاست کے مختلف اضلاع اور اہم مقامات پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔ عوام کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کو چھپانے، ملازمت دینے یا ان کی سرگرمیوں میں مدد کرنے سے گریز کریں اور کسی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع سرکاری امیگریشن ذرائع کو دیں۔
یہ کارروائیاں ملائیشیا میں غیر ملکی شہریوں کے قیام اور ملازمت سے متعلق امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کے سلسلے کا حصہ ہیں۔ حراست میں لیے گئے افراد کے خلاف مزید قانونی کارروائی متعلقہ قوانین اور امیگریشن طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی۔

COMMENTS