ملائیشیا کی ریاست سراواک کے شہر کوچنگ میں امیگریشن حکام نے مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے 35 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ یہ کا...
ملائیشیا کی ریاست سراواک کے شہر کوچنگ میں امیگریشن حکام نے مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے 35 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی امیگریشن قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف کی گئی، جبکہ کارروائی کے دوران بعض افراد نے حکام کو دیکھ کر فرار ہونے کی کوشش بھی کی۔
یہ آپریشن گزشتہ رات کوچنگ کے مختلف مقامات پر کیا گیا، جس میں ملائیشیا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ سراواک کے افسران اور اہلکار شریک ہوئے۔ آپریشن میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (آپریشنز) داتوک لوکمان افندی رملی اور کوچنگ امیگریشن انفورسمنٹ ڈویژن کے سربراہ یوسدی مرشیدی بھی موجود تھے۔
امیگریشن حکام کے مطابق کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 57 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں سے 35 غیر ملکی شہریوں کو مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے شبہ میں حراست میں لیا گیا۔
بعض افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی
سراواک امیگریشن کے مطابق کارروائی کے دوران بعض افراد نے انفورسمنٹ ٹیم کی موجودگی کا علم ہونے کے بعد وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ حکام نے بتایا کہ کچھ افراد نے کارروائی سے بچنے کے لیے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی۔
محکمے کے مطابق بعض افراد نے رونا شروع کیا تاکہ انہیں حراست میں لیے جانے سے بچایا جا سکے، جبکہ کچھ نے موقع سے نکلنے کی کوشش کی۔ تاہم کارروائی میں شامل اہلکاروں کی فوری کارروائی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے باعث فرار ہونے کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔
اس آپریشن میں مجموعی طور پر 45 انفورسمنٹ اہلکار شامل تھے۔ حکام نے مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے وہاں موجود افراد کی جانچ کی اور مشتبہ افراد کے امیگریشن دستاویزات اور قانونی حیثیت کا جائزہ لیا۔
گرفتار افراد میں انڈونیشیا اور ویتنام کے شہری شامل
امیگریشن حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے 35 غیر ملکی شہریوں میں سب سے زیادہ تعداد انڈونیشیا کے شہریوں کی تھی۔
مجموعی طور پر 24 انڈونیشیائی شہری حراست میں لیے گئے، جن میں 14 مرد اور 10 خواتین شامل ہیں۔
اس کے علاوہ 10 ویتنامی خواتین کو بھی حراست میں لیا گیا، جبکہ ایک چینی شہری، جو مرد ہے، بھی کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔
اس طرح حراست میں لیے گئے 35 افراد میں:
- 24 انڈونیشیائی شہری
- 10 ویتنامی شہری
- 1 چینی شہری
شامل ہیں۔
حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے تمام افراد کی عمریں 18 سے 57 سال کے درمیان ہیں۔
حراست کے بعد امیگریشن ڈپو منتقل
سراواک امیگریشن کے مطابق گرفتار کیے گئے تمام 35 افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے سیموجا امیگریشن ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے۔
ان افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور ان کے معاملات متعلقہ امیگریشن قوانین کے تحت دیکھے جا رہے ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ حراست کے بعد قانونی عمل کے تحت ان کے کیسز کی مزید جانچ کی جائے گی۔
اس کارروائی میں جن قانونی دفعات کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں ان میں امیگریشن ایکٹ 1959/63 (ایکٹ 155) کی دفعہ 6(1)(سی) اور دفعہ 15(1)(سی) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے ریگولیشن 39(بی) کے تحت بھی کیسز کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
یہ دفعات غیر ملکی شہریوں کے ملک میں داخلے، قیام اور امیگریشن قوانین کی پابندی سے متعلق معاملات میں استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم حراست یا تحقیقات کا مطلب خود بخود جرم ثابت ہونا نہیں ہے، بلکہ متعلقہ حکام قانونی طریقہ کار کے مطابق مزید کارروائی کرتے ہیں۔
امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی جاری رکھنے کا اعلان
سراواک امیگریشن نے واضح کیا ہے کہ محکمہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فریق کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ حکام کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں موجودہ قوانین کے تحت سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
محکمے نے کہا کہ انفورسمنٹ آپریشنز کا مقصد امیگریشن قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا اور ایسے غیر ملکی شہریوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کر رہے ہوں۔
کوچنگ میں ہونے والی یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا کے مختلف علاقوں میں امیگریشن حکام غیر ملکی شہریوں کی قانونی حیثیت اور دستاویزات کی جانچ کے لیے مختلف آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔
غیر ملکی شہریوں کے لیے ملائیشیا میں قانونی قیام اور ملازمت کے لیے متعلقہ امیگریشن اجازت ناموں اور دستاویزات کا ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح آجر بھی غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے کے معاملے میں ملکی قوانین اور مقررہ شرائط کی پابندی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
کارروائی کا مجموعی نتیجہ
کوچنگ کے مختلف مقامات پر ہونے والے اس آپریشن میں 57 افراد کی جانچ کی گئی جبکہ 35 غیر ملکی شہریوں کو مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں کے شبہ میں حراست میں لیا گیا۔ ان میں انڈونیشیا، ویتنام اور چین کے شہری شامل ہیں۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران کچھ افراد نے فرار ہونے یا ہمدردی حاصل کرکے حراست سے بچنے کی کوشش کی، تاہم 45 اہلکاروں پر مشتمل ٹیم نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔
گرفتار افراد کو مزید کارروائی کے لیے سیموجا امیگریشن ڈپو منتقل کیا گیا ہے اور ان کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کی متعلقہ دفعات کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
سراواک امیگریشن نے اس موقع پر ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ریاست میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف موجودہ قانونی دفعات کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

COMMENTS