کوتا کنابالو: ملائیشیا کی ریاست صباح میں سات پاکستانی شہریوں کو مقررہ مدت سے زیادہ قیام (اوور اسٹے) کے جرم میں سیشنز کورٹ نے قید اور جرم...
کوتا کنابالو: ملائیشیا کی ریاست صباح میں سات پاکستانی شہریوں کو مقررہ مدت سے زیادہ قیام (اوور اسٹے) کے جرم میں سیشنز کورٹ نے قید اور جرمانے کی سزائیں سنا دیں۔
صباح میڈیا کے مطابق ساتوں پاکستانی شہریوں نے عدالت میں اپنے خلاف عائد الزام کا اعتراف کیا۔ عدالت کے سامنے یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے صباح میں ایک سے سات سال تک مقررہ مدت سے زیادہ قیام کیا۔
دو پاکستانی شہریوں کو 12 ماہ قید
سیشنز کورٹ کے جج حرمین حسین نے مقدمے میں سات پاکستانی شہریوں کو سزائیں سنائیں۔
کامران شاہ اور محمد عمر کو عدالت نے 12، 12 ماہ قید کی سزا سنائی۔
جبکہ دیگر پانچ ملزمان:
- زمان محمد
- صابر شاہ
- احسان اللہ
- رحمان عبدال
- سجاد علی
کو ہر ایک کو 10,000 ملائیشین رنگٹ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ہر شخص کو 12 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔
یہ مقدمہ ملائیشیا امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 15(1)(سی) کے تحت چلایا گیا، جو مقررہ مدت سے زیادہ قیام سے متعلق ہے۔
سزا مکمل ہونے کے بعد امیگریشن حکام کے حوالے کیا جائے گا
عدالت نے حکم دیا کہ ساتوں افراد اپنی متعلقہ سزائیں مکمل کرنے کے بعد مزید کارروائی کے لیے دوبارہ ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن کے حوالے کیے جائیں۔
اس مرحلے پر امیگریشن حکام کی جانب سے ان کے حوالے سے مزید قانونی اور امیگریشن کارروائی کی جائے گی۔
مزید 6 غیر ملکی شہریوں کو بھی سزائیں
اسی عدالتی کارروائی کے دوران مزید چھ غیر ملکی شہریوں کو بھی ملائیشیا میں درست پاس یا پرمٹ کے بغیر موجود رہنے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔
ان میں:
- ایک فلپائنی مرد
- ایک انڈونیشی مرد
- تین پاکستانی مرد
شامل تھے۔ رپورٹ میں چھٹے فرد کی قومیت واضح نہیں کی گئی۔
فلپائن اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے دونوں افراد کو گرفتاری کی تاریخ سے چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
جبکہ تین پاکستانی شہریوں میں سے ہر ایک کو 4,000 ملائیشین رنگٹ جرمانہ کیا گیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ہر ایک کو چار ماہ قید بھگتنا ہوگی۔
ان افراد کے خلاف مقدمات امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(سی) کے تحت چلائے گئے، جو درست پاس یا پرمٹ کے بغیر ملائیشیا میں موجودگی سے متعلق ہے۔
مقدمات کی پیروی امیگریشن پراسیکیوشن آفیسر کمرول یوسف نے کی۔
اہم وضاحت: اس رپورٹ میں مذکور سات پاکستانی شہریوں کے خلاف عدالت نے اعترافِ جرم کے بعد سزائیں سنائی ہیں، اس لیے انہیں صرف زیرِ تفتیش افراد کے طور پر نہیں بلکہ عدالتی سزا پانے والے افراد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

COMMENTS