کوالالمپور: ملائیشیا کے امیگریشن ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے درست کارڈ رکھنے...
کوالالمپور: ملائیشیا کے امیگریشن ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے درست کارڈ رکھنے والے پناہ گزین بھی ملائیشیا کے امیگریشن قوانین کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور انہیں ان مخصوص خلاف ورزیوں کے علاوہ دیگر امیگریشن جرائم پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن سے انہیں استثنیٰ حاصل ہے۔
یہ وضاحت پیر 7 ستمبر کو زکریا شعبان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں سامنے آئی۔ انہوں نے ان رپورٹس کے بعد وضاحت کی جن میں یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والے روہنگیا افراد کی قانونی حیثیت سے متعلق ان سے منسوب بعض بیانات کا ذکر کیا گیا تھا۔
زکریا شعبان نے کہا کہ انہوں نے یہ بیان نہیں دیا تھا کہ روہنگیا افراد غیر قانونی تارکین وطن نہیں ہیں۔ ان کے مطابق درست یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والے پناہ گزین بھی امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تابع رہتے ہیں اور انہیں دیگر امیگریشن خلاف ورزیوں پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے خاص طور پر واضح کیا کہ اگر کوئی یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والا شخص ملائیشیا میں کام کرنے کے لیے قانونی طور پر مطلوبہ پاس یا اجازت نامہ نہیں رکھتا تو اس کے خلاف کارروائی ممکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یو این ایچ سی آر کارڈ کو ملائیشیا میں کام کرنے کے لیے خودکار اجازت نامہ نہیں سمجھا جاتا۔
یو این ایچ سی آر کارڈ کا مطلب کیا ہے؟
امیگریشن ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے مطابق یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والے پناہ گزینوں کو ملائیشیا کے امیگریشن قانون کی تمام شقوں سے عمومی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امیگریشن ایکٹ کے تحت صرف دو مخصوص خلاف ورزیوں پر استثنیٰ دیا گیا ہے۔
ان میں درست سفری دستاویز یا پاس نہ رکھنا اور مقررہ مدت سے زیادہ قیام، یعنی اوور اسٹے شامل ہیں۔ تاہم زکریا شعبان نے زور دیا کہ ان دو معاملات میں استثنیٰ کا مطلب یہ نہیں کہ یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والے افراد امیگریشن ایکٹ کی دیگر تمام شرائط سے آزاد ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والوں کو قانون کی دیگر متعلقہ شقوں کی پابندی کرنا ہوگی۔ اس وضاحت سے خاص طور پر ان افراد کی قانونی حیثیت کا معاملہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ملائیشیا میں پناہ گزین یا پناہ کے متلاشی کی حیثیت سے موجود ہیں۔
بغیر اجازت کام کرنے پر کارروائی ممکن
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں اور امیگریشن قوانین کے حوالے سے کام کرنے کی اجازت ایک اہم معاملہ ہے۔ زکریا شعبان نے واضح کیا کہ درست یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والے پناہ گزین بھی اگر ضروری قانونی پاس یا ورک پرمٹ کے بغیر کام کرتے ہیں تو ان کے خلاف امیگریشن قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ وضاحت ان غیر ملکی افراد کے لیے بھی اہم ہے جو ملائیشیا میں روزگار کے مواقع تلاش کرتے ہیں، کیونکہ کسی شناختی یا رجسٹریشن دستاویز کا موجود ہونا لازماً ملازمت کی قانونی اجازت نہیں دیتا۔
امیگریشن ڈائریکٹر جنرل نے یہ بھی کہا کہ ایسے پناہ گزینوں کو ملازمت دینے والے آجر بھی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں اگر انہوں نے مطلوبہ قانونی اجازت کے بغیر انہیں ملازمت دی ہو۔
اس طرح معاملہ صرف کارکن تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایسے آجر بھی قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں جو ضروری اجازت نامے کے بغیر یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والے پناہ گزینوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں۔
ملائیشیا میں پناہ گزینوں کے انتظام کی حکومتی پالیسی
زکریا شعبان کے مطابق ملائیشیا میں پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کا انتظام حکومت کی پالیسی کے مطابق کیا جاتا ہے۔ یہ پالیسی نیشنل سکیورٹی کونسل ڈائریکٹو نمبر 23 کے تحت پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کے انتظام کے لیے وضع کیے گئے طریقہ کار سے مربوط ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی کی نگرانی پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد سے متعلق کابینہ کمیٹی کرتی ہے، جس کی سربراہی نائب وزیراعظم داتوک سری ڈاکٹر احمد زاہد حمیدی کر رہے ہیں۔
اس حکومتی انتظام کے تحت متعلقہ اداروں کو پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد سے متعلق ریکارڈ اور معلومات مرتب کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔
ریفیوجی رجسٹریشن ڈاکومنٹ پروگرام
امیگریشن ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ وزارت داخلہ اور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کو ملک میں پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کی رجسٹریشن کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ یہ عمل ریفیوجی رجسٹریشن ڈاکومنٹ، یعنی ڈی پی پی پروگرام کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق اس پروگرام کا مقصد حکومت کو ملائیشیا میں موجود پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد سے متعلق زیادہ جامع اور منظم معلومات فراہم کرنا ہے۔
اس پروگرام کے ذریعے حکومت کے لیے یہ ممکن بنایا جا رہا ہے کہ وہ ملک میں موجود پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کا ڈیٹا زیادہ منظم انداز میں رکھ سکے۔ زکریا شعبان نے کہا کہ پناہ گزینوں سے متعلق انتظام اور رجسٹریشن حکومتی پالیسی اور متعلقہ نظام کے تحت جاری ہے۔
امیگریشن قوانین پر عمل درآمد جاری رکھنے کا عزم
زکریا شعبان نے کہا کہ امیگریشن حکام اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور امیگریشن قوانین اور حکومتی پالیسیوں کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
ان کی وضاحت کا بنیادی مقصد یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والے پناہ گزینوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمی کو دور کرنا تھا۔ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے سے کسی فرد کو ملائیشیا کے تمام امیگریشن قوانین سے عمومی استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا۔
خاص طور پر روزگار کے معاملے میں قانونی اجازت کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ اگر کوئی شخص مطلوبہ قانونی پاس یا پرمٹ کے بغیر کام کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ممکن ہے، جبکہ اسے ملازمت دینے والا آجر بھی کارروائی کا سامنا کر سکتا ہے۔
ملائیشیا میں روہنگیا اور دیگر پناہ گزینوں کی موجودگی کے حوالے سے امیگریشن اور رجسٹریشن کا معاملہ مسلسل حکومتی پالیسی کے تحت دیکھا جا رہا ہے۔ تازہ وضاحت میں امیگریشن حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والے افراد کے لیے موجود مخصوص استثنیٰ کو دیگر امیگریشن قوانین سے مکمل چھوٹ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
اس لیے یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والے افراد کے لیے بھی ملائیشیا میں قیام، روزگار اور دیگر امیگریشن معاملات میں قابل اطلاق قانونی تقاضوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسی طرح آجروں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کسی پناہ گزین یا غیر ملکی فرد کو ملازمت دینے سے قبل متعلقہ قانونی اجازت اور دستاویزات کی حیثیت کو یقینی بنائیں۔

COMMENTS