دبئی میں 20 لاکھ درہم کی جائیداد خریدنے پر گولڈن ویزا حاصل کرنے کا طریقہ، آف پلان اور مورگیج کی شرائط اور ٹیکس سے متعلق اہم نکات اور خدشات ت...
دبئی میں 20 لاکھ درہم کی جائیداد خریدنے پر گولڈن ویزا حاصل کرنے کا طریقہ، آف پلان اور مورگیج کی شرائط اور ٹیکس سے متعلق اہم نکات اور خدشات تفصیل سے جانیں۔
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں جائیداد خریدنے کے ذریعے گولڈن ویزا حاصل کرنے کا راستہ بیرون ملک رہائش چاہنے والوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ٹی این ٹی میگزین نے یکم اکتوبر 2026 کی اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مطلوبہ مالیت کی جائیداد خریدنے پر طویل مدتی رہائش مل سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس راستے کے ساتھ کچھ اہم شرائط اور خدشات بھی جڑے ہیں، جنہیں خریداری سے پہلے سمجھنا ضروری ہے۔
جائیداد کے ذریعے گولڈن ویزا کیسے ملتا ہے؟
رپورٹ کے مطابق ماضی میں دبئی میں رہنے کے لیے عموماً کسی آجر کی اسپانسرشپ درکار ہوتی تھی، اور ملازمت ختم ہونے پر ویزا بھی ختم ہو جاتا تھا۔ گولڈن ویزا نے اس صورتحال کو بدلا ہے، اور جائیداد خریدنے کا راستہ اب ایک متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزارت اقتصاد کی مقرر کردہ کم از کم مالیت 20 لاکھ (2,000,000) درہم ہے۔ تعمیر کے مرحلے میں موجود یعنی آف پلان یونٹس بھی شمار ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں حکام کی منظور شدہ مقامی ڈویلپرز سے خریدا جائے۔ درخواست گزار اور ویزے میں شامل افراد کے لیے ہیلتھ انشورنس بھی ضروری قرار دی گئی ہے۔
ضروری نہیں کہ ایک ہی بڑا فلیٹ خریدا جائے۔ رپورٹ کے مطابق ایک یا ایک سے زائد جائیدادوں کی مجموعی مالیت بھی مطلوبہ حد تک پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹ میں ایک ڈویلپر کی فہرستوں کی مثال دی گئی ہے۔ اس کے مطابق جمیرہ ویلج سرکل میں ایک بیڈروم یونٹ کی ابتدائی قیمت تقریباً 16 لاکھ (1,600,000) درہم ہے اور وہ اکیلا مطلوبہ حد پوری نہیں کرتا۔ بزنس بے میں ایک بیڈروم یونٹ کی ابتدائی قیمت تقریباً 25 لاکھ 70 ہزار (2,570,000) درہم بتائی گئی ہے، جو حد سے اوپر ہے۔ اس لیے خریدار کو دیکھنا ہوگا کہ مخصوص یونٹ خود اہل ہے یا نہیں۔
مورگیج اور آف پلان خریداری میں کیا فرق پڑتا ہے؟
رپورٹ نے عربین بزنس کے حوالے سے لکھا ہے کہ دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ اب دس سالہ سرمایہ کار رہائش کے لیے مورگیج والی جائیداد بھی قبول کرتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ بینک کا خط یہ ثابت کرے کہ 20 لاکھ درہم عملاً ادا کیے جا چکے ہیں۔ اس سروس کی شائع شدہ فیس تقریباً 9,885 درہم بتائی گئی ہے۔ یعنی مورگیج کی صورت میں اصل بات جائیداد کی کل قیمت نہیں بلکہ خریدار کی ادا کی ہوئی رقم ہے۔
آف پلان خریداری کے بارے میں رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس میں خطرات بھی ہیں۔ رقم مرحلہ وار ادا کی جاتی ہے جبکہ یونٹ ابھی تیار نہیں ہوتا۔ حوالگی کی تاریخیں آگے بڑھ سکتی ہیں اور تعمیر کے دوران ڈیزائن یا تکمیلی کام بدل سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ادائیگی کے ہر مرحلے کی رقم غور سے پڑھنا اور یہ دیکھنا ضروری ہے کہ درخواست کے وقت کاغذ پر مالیت مطلوبہ حد تک پہنچے گی یا نہیں۔
دبئی میں حوالگی سے پہلے یونٹ آگے بیچنا عام بتایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جو فلیٹ بیچ دیا جائے وہ ویزا کی مطلوبہ مالیت میں شمار نہیں ہوگا۔
ملک سے باہر قیام اور برطانوی ٹیکس کا معاملہ
رپورٹ کے مطابق گولڈن ویزا رکھنے والے افراد چھ ماہ سے زیادہ عرصہ متحدہ عرب امارات سے باہر رہ سکتے ہیں اور ان کی رہائش ختم نہیں ہوتی، جبکہ عام ویزے ایسی صورت میں منسوخ ہو جاتے ہیں۔ جیون ساتھی اور بچوں کو بھی اسپانسر کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دبئی میں تنخواہوں پر ٹیکس نہیں لگتا۔
یہ رپورٹ برطانوی قارئین کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس کے مطابق متحدہ عرب امارات کا رہائشی کارڈ ہونے سے کوئی شخص خود بخود برطانوی ٹیکس کے لحاظ سے غیر مقیم نہیں بن جاتا۔ برطانوی ٹیکس اتھارٹی ایچ ایم آر سی کے قواعد کے مطابق جو شخص ٹیکس سال میں 183 دن یا اس سے زیادہ برطانیہ میں گزارے وہ خود بخود برطانوی رہائشی شمار ہوتا ہے۔ عموماً 16 دن سے کم قیام پر، یا بیرون ملک کل وقتی کام کرنے اور 91 دن سے کم برطانیہ میں رہنے پر شخص غیر مقیم سمجھا جاتا ہے۔ ان کے درمیان کے معاملات کا فیصلہ خاندان، کام اور رہائش جیسے تعلقات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنوں کا ریکارڈ رکھنا مفید ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دبئی میں قوانین سخت ہیں، اس لیے برطانوی فارن آفس کی مقامی قوانین سے متعلق ہدایات، خصوصاً شراب، عوامی رویے اور آن لائن پوسٹس کے بارے میں، پڑھ لینی چاہئیں۔
درخواست دینے سے پہلے کن باتوں کا جائزہ لیا جائے؟
رپورٹ میں خریداری سے پہلے یہ نکات بتائے گئے ہیں:
1. دیکھیں کہ مخصوص یونٹ، صرف عمارت نہیں، اکیلا یا دوسری جائیداد کے ساتھ مل کر مطلوبہ حد پوری کرتا ہے۔
2. آف پلان کی صورت میں ڈویلپر کی منظوری کی تصدیق کریں اور پوچھیں کہ درخواست کے وقت کون سے کاغذات درکار ہوں گے۔
3. مورگیج کی صورت میں ویزا کے بارے میں بینک کا مؤقف تحریری طور پر حاصل کریں۔
4. روانگی سے پہلے ٹیکس کی پوزیشن کسی ماہر سے طے کروائیں۔
5. خریداری کی قیمت کے علاوہ ویزا فیس، ہیلتھ انشورنس اور سروس چارجز کا بجٹ بھی رکھیں۔

COMMENTS