جاپان نے مستقل رہائش کی درخواست فیس 64 ڈالر سے بڑھا کر 1,271 ڈالر کر دی ہے، جبکہ آمدنی، پنشن اور جاپانی زبان کی نئی شرائط بھی نافذ ہو گئی ہی...
جاپان نے مستقل رہائش کی درخواست فیس 64 ڈالر سے بڑھا کر 1,271 ڈالر کر دی ہے، جبکہ آمدنی، پنشن اور جاپانی زبان کی نئی شرائط بھی نافذ ہو گئی ہیں۔
جاپانی حکومت نے جمعرات، یکم اکتوبر کو مستقل رہائش کی درخواست فیس میں 2,000 فیصد اضافہ نافذ کر دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ فیس 64 ڈالر سے بڑھا کر 1,271 ڈالر کر دی گئی ہے، جو جاپان کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس کے ساتھ آمدنی، پنشن اور جاپانی زبان سے متعلق سخت شرائط بھی لاگو کی گئی ہیں۔ یہ ویزا اپ ڈیٹ جاپان میں رہنے اور کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کے مستقل رہائش حاصل کرنے کے عمل کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔
وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے کہا ہے کہ یہ اقدامات اس لیے ضروری تھے کہ حالیہ برسوں میں غیر ملکیوں کی آمد میں اضافے پر شہریوں کی تشویش بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں انہیں سخت گیر قدامت پسند رہنما قرار دیا گیا ہے۔ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے لکھا کہ کچھ شہری بے چینی اور ناانصافی کا احساس رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ان پالیسیوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ شہری اور غیر ملکی دونوں محفوظ اور پرسکون زندگی گزار سکیں۔
رپورٹ کے مطابق وبا کے بعد سے جاپان میں امیگریشن اور سیاحت دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجوہات میں ین کی کمزور قدر اور مزدوروں کی قلت پر قابو پانے کے لیے کمپنیوں کا بیرون ملک سے عملہ بلانا بتایا گیا ہے۔
نئی پالیسی کی شرائط کیا ہیں؟
نئے ضوابط "غیر ملکی شہریوں کو قبول کرنے اور ساتھ رہنے کے جامع اقدامات" کے نام سے متعارف کرائے گئے ہیں۔ ان کے تحت مستقل رہائش کے خواہش مند فرد کی آمدنی جاپانی گھرانوں کی اوسط آمدنی کے برابر یا اس سے زیادہ ہونا ضروری ہوگا۔ حکومتی اعلان میں کم از کم سالانہ آمدنی کی شرط 36,428 ڈالر بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ متوقع پنشن اتنی ہونی چاہیے جتنی کسی ملازم کو 30 سال کی ملازمت کے بعد ملتی ہے۔
حکومت پہلی بار درخواست گزاروں کا جائزہ جاپانی زبان کی مہارت اور جاپان کے قوانین اور رسم و رواج کی سمجھ کی بنیاد پر بھی لے گی۔ اس سے پہلے آمدنی، پنشن اور زبان کے بارے میں تفصیلی ہدایات موجود نہیں تھیں۔
نئے قواعد کے تحت حکومت مستقل رہائش منسوخ بھی کر سکتی ہے، اگر کوئی غیر ملکی پنشن کی ادائیگی، صحت بیمہ یا ٹیکس ادا نہ کرے، یا امیگریشن قانون یا فوجداری قانون کی خلاف ورزی کرے۔
دیگر فیسوں اور پالیسیوں میں تبدیلی
اضافہ صرف مستقل رہائش تک محدود نہیں۔ پانچ سالہ رہائشی اجازت نامے کی فیس 38 ڈالر سے بڑھا کر 475 ڈالر کر دی گئی ہے، یعنی تقریباً 1,300 فیصد اضافہ۔ جولائی میں حکومت نے بعض سیاحتی ویزوں کی قیمت میں 400 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ بزنس مینیجر ویزا پر بھی سختی کی گئی، جس کے تحت چھوٹے کاروباروں کے لیے سرمائے کی شرط 31,000 ڈالر سے بڑھا کر 188,000 ڈالر کر دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس کے نتیجے میں ریسٹورنٹ مالکان سمیت کئی دیرینہ رہائشی جاپان چھوڑ گئے۔
ناقدین اور غیر ملکیوں کا ردعمل
ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے غیر ملکیوں کے خلاف نفرت کو ہوا مل سکتی ہے اور جاپان کی مزدوروں کی شدید قلت سے نمٹنے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جاپان کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے اور 2020 سے 2025 کے درمیان اس میں 30 لاکھ (3 ملین) سے زیادہ کمی آئی۔ ماہرین کے مطابق معیشت کو سہارا دینے کے لیے جاپان کو لاکھوں مزید غیر ملکی کارکن بھرتی کرنا ہوں گے۔
کمیونسٹ پارٹی کے رکن پارلیمان تاکو یامازوے نے الزام لگایا کہ وزیراعظم معاشرے میں موجود خوف کو استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ایک پوسٹ میں کہا کہ حکومت بغیر کسی ثبوت کے یہ تاثر دے رہی ہے کہ غیر ملکی خود "تحفظ اور اطمینان" کے لیے خطرہ ہیں۔
جاپان کے بڑے لبرل اخبارات میں سے ایک مائنیچی شمبن نے گزشتہ ماہ اپنے اداریے میں لکھا کہ یہ قواعد انسانی حقوق کو نظرانداز کرتے ہیں اور انہیں واپس لیا جانا چاہیے۔ اخبار کے مطابق جن غیر ملکیوں نے جاپان میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا فیصلہ کیا ہے، ان سے یہ امید چھین لی جائے گی۔
فلپائنی خواتین کی مدد کرنے والے ادارے کالاکاسان مائیگرنٹ ویمن ایمپاورمنٹ سینٹر کی کوآرڈینیٹر لینی ٹولینٹینو نے ای میل میں لکھا کہ فیسوں میں اضافہ تارکین وطن پر بوجھ بڑھائے گا، خاص طور پر ان پر جن کے زیر کفالت افراد ہیں۔
امریکی استاد ڈینس میک ایڈمز 13 سال سے جاپان میں مقیم ہیں اور ان کی اہلیہ جاپانی ہیں۔ ان کے مطابق ان کی مستقل رہائش کی درخواست حال ہی میں مسترد ہوئی اور حکام نے وجہ یہ بتائی کہ وہ پنشن کی ادائیگی میں ایک دن لیٹ تھے۔ انہوں نے ایکس پر اپنا تجربہ شیئر کیا تو انہیں جاپان چھوڑنے کے مشورے دینے والے بہت سے تبصرے موصول ہوئے۔ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ دوبارہ درخواست دینے پر بھی وہ نئی شرائط پوری نہیں کر سکیں گے۔
غیر ملکیوں کی تعداد اور سیاسی پس منظر
رپورٹ کے مطابق جاپان میں غیر ملکی کارکنوں کی تعداد ریکارڈ سطح پر ہے، اگرچہ یہ اب بھی نسبتاً کم ہے۔ غیر ملکی اب 11 کروڑ 90 لاکھ (119 ملین) کی آبادی کا تقریباً 3.4 فیصد ہیں، جو اب تک کا سب سے بڑا تناسب ہے۔ گزشتہ سال تک مستقل رہائشیوں کی تعداد 9 لاکھ 47 ہزار 125 (947,125) تھی، جبکہ 2020 میں یہ 8 لاکھ 7 ہزار 517 (807,517) تھی، یعنی تقریباً 17 فیصد اضافہ۔
"جاپان فرسٹ" کا نعرہ لگانے والے دائیں بازو کے گروپ مزید سخت امیگریشن پالیسیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ گروپ غیر ملکیوں کو مسائل پیدا کرنے والا اور جاپانی ثقافت کو کمزور کرنے والا قرار دیتے ہیں، اور ان کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی ویزا قواعد کا فائدہ اٹھا کر غیر معینہ مدت تک جاپان میں رہتے ہیں۔

COMMENTS