محکمہ امیگریشن ملائیشیا نے نو ماہ میں 60,889 غیر قانونی غیر ملکی اور 1,815 آجر گرفتار کیے، 10,419 کارروائیاں ملک بھر میں ہوئیں اور مزید جاری...
محکمہ امیگریشن ملائیشیا نے نو ماہ میں 60,889 غیر قانونی غیر ملکی اور 1,815 آجر گرفتار کیے، 10,419 کارروائیاں ملک بھر میں ہوئیں اور مزید جاری رہیں گی۔
محکمہ امیگریشن ملائیشیا (جے آئی ایم) نے رواں سال کے پہلے نو ماہ میں ملک بھر میں کی گئی کارروائیوں کے دوران 60 ہزار 889 (60,889) غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے۔ سینار ہاریان کی 2 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل امیگریشن داتوک ذکریا شعبان نے یہ اعداد و شمار شاہ عالم میں بتائے۔ یہ خبر ملائیشیا میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں اور انہیں ملازمت دینے والے آجروں دونوں کے لیے اہم ہے۔
اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
ذکریا شعبان کے مطابق ستمبر تک 10 ہزار 419 (10,419) نفاذی کارروائیاں کی گئیں۔ ان کارروائیوں میں ایک لاکھ 38 ہزار 89 (138,089) افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔
اسی عرصے میں جے آئی ایم نے 1,815 آجروں کو بھی گرفتار کیا۔ ان پر غیر قانونی تارکین وطن کو پناہ دینے اور انہیں ملازمت پر رکھنے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ آجر مبینہ ملزم ہیں اور رپورٹ میں ان کے مقدمات کے نتائج کا ذکر نہیں۔
ڈائریکٹر جنرل کا مؤقف
داتوک ذکریا شعبان نے میڈیا کو جمعہ کے روز بتایا کہ ہر کارروائی صرف چھاپہ نہیں بلکہ اس امانت کا اظہار ہے جو محکمہ امیگریشن کے سپرد کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ مدنی حکومت کے اصولوں کے مطابق ملک کی خودمختاری کے تحفظ، سلامتی کو یقینی بنانے اور قانون کو انصاف اور دیانت کے ساتھ نافذ کرنے کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں وہ محض اعداد نہیں بلکہ ملکی سلامتی کے لیے محکمے کی سختی اور عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ احتساب، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی سلامتی کے اسی عزم کی عکاسی ہے۔
آجروں کے خلاف کارروائی
ذکریا شعبان نے واضح کیا کہ نفاذی کارروائیاں مختلف متعلقہ اداروں کے تعاون سے مسلسل جاری رہیں گی۔ ان کے مطابق کارروائیوں کا ہدف صرف غیر قانونی تارکین وطن نہیں بلکہ وہ آجر بھی ہیں جو اب بھی بغیر درست دستاویزات کے غیر ملکیوں کو ملازمت پر رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا نشانہ صرف غیر قانونی تارکین وطن نہیں بلکہ وہ آجر بھی ہیں جو انہیں ملازمت دیتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے آجروں کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی شقوں کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
ڈائریکٹر جنرل کے مطابق جے آئی ایم نفاذ کے پہلوؤں کو مزید مضبوط بنائے گا اور دیانت پر مبنی خدمات کی اصلاحات کو تیز کرے گا، تاکہ عوام کے مفاد اور ملکی سلامتی کا تحفظ یقینی رہے۔ رپورٹ میں آنے والی کارروائیوں کی کسی خاص تاریخ یا مقام کا ذکر نہیں کیا گیا۔

COMMENTS